بھٹکل 26 جولائی (ایس او نیوز): اترکنڑا میں گزشتہ ایک ہفتے سے موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں تین لوگوں کی موت ہوئی ہے، 14 مویشی مرگئے ہیں، جبکہ 289 گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔ اس بات کی اطلاع ڈپٹی کمشنر پربھولنگا کولی کٹی نے دی۔
کاروار میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ دن بہ دن بارش میں اضافے کی وجہ سے ندی اور نالے پانی سے لبریز ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے ندی اور سمندر کنارے رہنے والوں کو سخت پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ انہوں نے معلومات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ کئی مکانات سیلاب کی زد میں آ گئے ہیں، وہیں کچھ مکانات منہدم ہو کر تباہ ہو گئے ہیں۔ کھیتوں میں پانی جمع ہوجانے سے فصلوں کو نقصان پہنچاہے، بارش سے کئی پلوں سمیت فٹ بریج اور سڑکوں کو بھی نقصان پہنچاہے اور کئی دیہاتوں کے ساتھ رابطہ منقطع ہوگیاہے۔
انہوں نے بتایا کہ طوفانی بارش کی وجہ سے کئی بجلی کے کھمبوں کو بھی نقصان پہنچا ہے اور ابھی بھی بعض جگہوں پر بجلی کا کنکشن منقطع ہے۔ جس کی وجہ سے سینکڑوں لوگ مصائب و آلام کا شکار ہو چکے ہیں۔
اس کے علاوہ کمٹہ-سرسی ہائی وے، کمٹہ سداپور ہائی وے اور گوا کو جوڑنے والی رام نگر-لونڈہ ہائی وے پر پہاڑی کھسک کر مٹی گرنے کے واقعات سے ٹریفک نظام متاثر ہوا ہے۔
طلباء کی حفاظت کے پیش نظر پیر کے بعد منگل کو پورے ضلع کے تمام 12 تعلقوں کے اسکولوں کو چھٹی دی گئی تھی اب گھاٹ کے بالائی تعلقوں میں بہت زیادہ بارش ہونے کی وجہ سے بدھ کو جوئیڈا، ہلیال، ڈانڈیلی کے ساتھ ساتھ ساحلی تعلقوں کاروار، ہوناور اور بھٹکل تعلقوں کے اسکولوں میں بھی چھٹی جاری رکھی گئی ہے۔
ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ آبی ذخائر میں پانی کی تھوڑی مقدار چھوڑی جا رہی ہے تاکہ ضلعی انتظامیہ کی طرف سے مقرر کردہ پانی کی سطح کو برقرار رکھ کر نشیبی علاقوں کو سیلاب سے بچایا جا سکے۔ کمٹہ اور ہوناور میں 11 نگہداشت کے مراکز کھولے گئے ہیں جہاں سینئر افسران کو رکھا گیا ہے تاکہ نشیبی علاقوں کے عوام کو کسی طرح کا مسئلہ درپیش ہونے کی صورت میں انہیں فوری یہاں منتقل کیا جاسکے اور انہیں راحت پہنچائی جاسکے۔
ہوناور اور کمٹہ کے کئی نشیبی علاقوں میں آگناشینی اور شراوتی ندیوں میں پانی کی سطح بلند ہونے اور باہر ابل پڑنے سے آس پاس کے تمام علاقے تالاب کا منظر پیش کررہے ہیں جبکہ اس کے نتیجے میں بعض خاندان بے گھر ہوگئے ہیں۔
جو 11 نگہداشت کے مراکز کھولے گئے ہیں اس میں فی الحال 360 لوگوں کو رکھا گیاہے۔ ڈی سی نے بتایا کہ سینئر افسران کو کہا گیا ہے کہ وہ راحت کیمپ پر ہی رہ کر عوام کو کسی قسم کی پریشانی نہ ہونے کو یقینی بنائیں۔
سرسی-کمٹہ کو جوڑنے والی دیوی منے گھاٹ پر پہاڑی کھسکنے کی وجہ سے مسئلہ پیدا ہوا تھا، مگر اس سڑک کو صاف کر دیا گیا ہے۔ البتہ سڑک مکمل نہ ہونے کی وجہ سے بھاری گاڑیوں کو یلا پور-انکولہ روٹ پر اربیل گھاٹ سے اگے بڑھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
انشی گھاٹ علاقے کی بھی مسلسل جانچ پڑتال جاری ہے جہاں پہاڑی کو صاف کرنے کے بعد بھی پہاڑی کھسکنے کی وارداتیں پیش آرہی ہیں۔ اس لیے بھاری گاڑیوں کے لیے متبادل راستہ اختیار کرنا بہتر ہے۔ پہاڑی گرنے والے علاقے کی پہلے ہی نشاندہی کر کے وہاں پیشگی اقدامات کئے گئے ہیں۔ لیکن اگر پہاڑی کھسکنے اور روڈ پر گرنے کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو ماضی کی طرح رات کی ٹریفک کو محدود کرنے کے بارے میں غور کیا جاسکتا ہے۔